جی20ملکوں کا پاکستان سمیت 76ملکوں کو قرض میں ریلیف دینے کا فیصلہ
فائل فوٹواسلام آباد:جی20ملکوں نے پاکستان سمیت 76ملکوں کو قرض میں ریلیف دینے کا فیصلہ کرلیا، فیصلے کا اطلاق یکم مئی سے ہوگا۔
وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے نیوز کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ کورونا وائرس نےدنیا بھرکواپنی لپیٹ میں لےرکھاہے،کورونا کےباعث ایکسپورٹس متاثر ہوئی ہیں،ترقی پذیرممالک کی آمدن کم اور اخراجات بڑھ رہےہیں،دفترخارجہ میں اس حوالے سے حکمت عملی طے کی گئی۔
شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ دفترخارجہ میں متعلقہ وزراءکودعوت دی،وزراءکےمشوروں کو شامل کر کےمؤثر حکمت عملی بنائی،پلان بناکروزیراعظم عمران خان سےبات کی،وزیراعظم کامؤقف تھاکورونا سےترقی پذیرملک متاثرہوں گے،انہوں نےکہارسک ہےلیکن ہمیں یہ قدم اٹھانا چاہیئے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عالمی دنیا اور اقوام متحدہ سے مخاطب ہوئے،عمران خان نے12اپریل کو اپنی اپیل کا آغاز کیا،وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھرکی معیشت کورونا سےمتاثرہوچکی ہے،دنیاترقی پذیر ممالک کی قرضوں میں ریلیف کی شکل میں مددکرسکتی ہے،قرضوں میں ریلیف سےترقی یافتہ ممالک کو بھی فائدہ ہوگا،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور ایم ڈی آئی ایم ایف نے بھی وزیراعظم کی اپیل کو سراہا ۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کوروناکیخلاف عالمی اتفاق رائےاورتعاون درکارہے،بھارت نےسارک کا حلیہ بگاڑنےکی مکمل کوشش کی ،اس کے باوجودپاکستان نےکوروناکےباعث سارک کی ویڈیو کانفرنس میں شرکت کی ۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے موسمیات تبدیلی،اسلاموفوبیااورکرپشن کیخلاف بھی عالمی سطح پر آوازاٹھائی اور اب پی ٹی آئی حکومت نے چوتھا عالمی قدم اٹھایا ، وزیراعظم کی وجہ سے ناممکن کام آخرکار ممکن بن گیا، جی20نے76ممالک کو قرضوں میں ریلیف دینےکافیصلہ کیا ہے ،76 ممالک اس فیصلے سے ایک ساتھ مستفیدہوں گے،قرضوں میں ایک سال کیلئے ریلیف کی بات کی جارہی ہے،قرضوں میں ریلیف تمام عالمی اداروں کی طرف سے ہے،قرضوں میں ریلیف یکم مئی سےنافذالعمل ہوگی۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نےاتفاق رائےکیلئےقومی رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے،کمیٹی میں چاروں وزرائےاعلیٰ،گلگت بلتستان اور آزادکشمیرکےوزرائےاعظم شامل ہیں،نیشنل کمانڈاینڈآپریشن سینٹرمیں بھی تمام صوبوں کی نمائندگی شامل ہے،وزیراعظم سب سے پہلے وزیراعلیٰ سندھ کی بات سنتےہیں،سندھ کےعوام کو مایوس نہیں کرنا چاہتے ،یقین ہےسندھ حکومت نیک نیتی سےکام لے رہی ہے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔